229

اصلی اورنقلی ڈاکو

کیسا معاشرہ معرض وجود میں آچکا۔ڈاکو کسی طرف سے ڈاکو نہیں لگتے۔ غریب غربا، بھوکے ننگے، فاقہ زدہ بوسیدہ لباس، ہڈیوں کے ڈھانچے، اجڑے پجڑے، تاثرات سے عاری چہرے، کانپتے لرزتے گھگیاتے، منمناتے، سرعام جوتے کھاتے۔اور جو ڈاکوئوں کے ڈاکو ہیں۔ اے موٹی موٹی گردنیں بلکہ گائے، تین تین مرلوں پر پھیلے منہ، چمکدار چہرے، ساکٹس سے ابلتی ہوئی آنکھیں، کئی کئی کلومیٹرز دراز زبانیں، بیش قیمت لباس، کئی کئی کروڑ کی گھڑیاں اور ڈائمنڈ کف لنکس، اپنے ہم زاد مگرمچھوں اور سانپوں کی کھال سے بنے جوتے، اربوں روپے کی گاڑیوں کے جلو میں جلوے بکھیرتے، کبھی آنکھیں اور کبھی دندیاں نکالتے ہوئے یہ سیون سٹار ڈاکو وہ ہیں جن پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی گلابوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں اور جو جعلی ڈاکو ہیں ان پر گھونسے، لاتیں، ٹھڈے، گالیاں نچھاور کرنے کے بعد حوالہ پولیس کردیا جاتا ہے تاکہ وہ تھانوں میں ان کی خالی جگہیں اپنے مخصوص چھتروں سے پر کریں۔یہ جادونگری ہے جہاں جعلی ڈاکوئوں کو تو فوری انصاف مل جاتا ہے جبکہ اصلی ڈاکو اگلے الیکشن پر ڈاکے کی سرعام تیاریوں میں مشغول رہتے ہیں۔ عدالتوں میں بھی یوں جاتے ہیں جیسے پہلی بار سسرال تشریف لے جارہے ہوں تو اے پیارے برادران ملت! اقبال کے شاہینو! زندہ دلانو! خود اپنی طرف کھینچی ہوئی کمانو! ظلم کی آخری حدود کو پامال کرتا ہوا یہ انوکھا انصاف کب تک زندہ رہ سکتا ہے؟اس کالم نہیں ’’مہا بکواس‘‘ کی شان نزول یہ ہے کہ میں نے گزشتہ دنوں اوپر نیچے ٹی وی چینلز پر پہلی بار ’’ڈاکوئوں‘‘ کے حال حلیئے چہرے مہرے غور سے دیکھے تو مارے خوف اور ندامت کے لرزہ سا طاری ہوگیا۔ یہ ’’ڈاکو‘‘ تھے بھی میرے کوئی دور پار کے پڑوسی اور وہ یوں کہ ان کے غیر جمہوری گروہ، غیر آئینی گروہ، غیر منتخب گروہ کا تعلق رائے ونڈ سے تھا۔ سندر رائے ونڈ روڈ پر موجود ’’ہانسی حویلی‘‘ ’’بیلی پور‘‘ برسہا برس ہمارا گھر تھی جو اب فقط فارم ہائوس ہے جہاں کبھی کبھار ویک اینڈ گزارتے ہیں سو یہ میرے رائے ونڈیئے پڑوسی ہیں۔ شریف برادری کا جاتی امرا بھی رائے ونڈ میں ہی ہے سو اس حوالہ سے یہ ڈاکو شریفوں کے بھی دور پار پڑوسی ہوئے۔ان نوجوان ’’غیر منتخب ڈاکوئوں‘‘ سے کچھ موٹر سائیکلیں اور موبائل فون بھی برآمد ہوئے جو بطور مال مسروقہ ٹی وی اسکرینوں پر بھی دکھائے گئے لیکن میری نظریں ان کے ویران چہروں پر فریز ہوئے رہ گئیں اور میں یہ سوچنے لگا کہ اگر یہ ڈاکو سو سو سال کی عمریں بھی پاتے، کبھی پکڑے بھی نہ جاتے تو زیادہ سے زیادہ کتنے کروڑ کے موبائل اورموٹر سائیکل لوٹ سکتے تھے جبکہ اصلی ڈاکو ایک ماہ کیلئے ایک SROتبدیل کر کے کتنے ارب ’’کما‘‘ سکتا ہے؟ صرف ایک ’’کمیشن‘‘ یا ’’کک بیک‘‘ کا حجم کتنا ہوتا ہے؟حساب کتاب کو گولی ماریں۔ میرا مسئلہ حل کریں جس نے میرا بچپن غارت کر کے رکھ دیا۔ باقی بچوں کی طرح میں نے بھی بچپن میں ڈاکوئوں کی کہانیاں بڑے شوق سے پڑھی ہیں۔ میرے ایج گروپ کا شاید ہی کوئی بندہ ایسا ہو جس نے بچپن میں سلطانہ ڈاکو سے لیکر رابن ہڈ تک کے کارنامے نہ پڑھے ہوں یا ’’چٹان عرف سنگرام‘‘….. ’’سرفروش‘‘ اور ’’آگ کا دریا‘‘ جیسی فلمیں نہ دیکھی ہوں جن میں ڈاکو بڑے وجیہہ، قد آور، شاندار ہوتے تھے جو امیروں کو لوٹ لوٹ کر غریبوں کو پالتے۔ ’’سرفروش‘‘ کے ہیرو ہینڈسم ترین سنتوش کمار تھے، ’’آگ کا دریا‘‘ کا ہیرو مردانہ وجاہت کا شاہکار محمد علی لیکن یہ جنہیں ہم ہر دوسرے دن پکڑ کے لترول کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کرتے ہیں، ان کا تو کہانیوں والے ڈاکوئوں سے ملتا جلتا ہی کچھ نہیں۔ یہاں یاد آیا ایک فلم 70ءکی دہائی میں بنی، نام تھا ’’سلطانہ ڈاکو‘‘ میں نے بھی اس کے دو تین گیت لکھے۔ اس میں ’’سلطانہ‘‘ کا رول اداکار سدھیر نے نبھایا جو مردانہ حسن کی اک اور مثال تھے لیکن ہمارے تو جتنے بھی ڈاکو پکڑے جاتے ہیں، ڈاکوئوں کی ڈمیاں بھی نہیں لگتے۔ نہ ماس نہ بوٹی نہ دال نہ روٹی، تو بھائی! یہ ڈاکوئوں کا کون سا برانڈ ہے؟ یہ سب ہمارے دودھ، گھی، مکھن، بیسن، مرچوں، ہلدی وغیرہ کی طرح جعلی اور دو نمبر ڈاکو ہیں۔ ڈاکوئوں کی پیروڈی۔اصلی ڈاکو کہیں اور ہوتے ہیں۔ ان کے ڈاکوں کی نوعیت بھی کچھ اور قسم کی ہوتی ہے ان کا ’’مال مسروقہ دکھائی بھی دے تو نظر نہیں آتا کیونکہ اس نے منی لانڈرنگ کی سلمانی ٹوپی پہنی ہوتی ہے سو ہم اصلی ڈاکوئوں کا غصہ بھی نقلی ڈاکوئوں پر نکال کر اپنے رانجھے راضی کرتے رہتے ہیں۔ ہیر کوئی اور لے جاتا ہے، کھیر کوئی اور کھا جاتا ہے۔چشم بددور کیسا معاشرہ ایجاد کیا ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں