352

ٹانک کیمپس’ اختیارات کی جنگ ‘ ڈیرہ وال مہرہ استعمال ہوگیا ‘ لابی نے کامیاب چال چل دی

روزنامہ ڈیرہ نیوز…ہفتہ …30دسمبر 2017
گومل یونیورسٹی ٹانک کیمپس کے کو آر ڈینٹر اقبال زیب خٹک کا اپنے عہدہ سے مستعفی ہونے کے فیصلے نے یونیورسٹی میں ایک نئی بحث اور سیاسی کھیل کا آغاز کر دیا ہے ٹانک کیمپس کی کوآر ڈ ینٹر کی پوسٹ پر اب احسان دانش کو تعینات کر دیا گیا ہے جو اس حوالے سے بھی حیران کن بات ہے کہ یہ وہی احسان دانش ہیں جس کو کچھ عرصہ قبل یونیورسٹی کا رجسٹر ار بنایا گیا تھا جس کی بنوچی لابی اور خاص کر رجسٹر ار دلنواز خان نے اس کی مخالفت کی تھی اور بعدازاں اسی احسان دانش پر کیس بنا کر اور ایک معاملے میں پھنسا کر ان کو رجسٹر ار کی پوسٹ سے ہٹوادیا گیا تھا احسان دانش کا تعلق ڈیرہ وال لابی کے ان کر داروں سے بتایا جاتا ہے جو نام تو ڈیرہ وال ہونے کا لیتے ہیں لیکن ہمیشہ ڈیرہ والوں کے مفادات کے خلاف کام کرتے چلے آئے ہیں احسان دانش کا تعلق بنوچی لابی کے قریبی حامیوں اور ساتھیوں میں شما رہوتے ہیں اور اب بنوچی لابی نے اپنے اس وفادار ڈیرہ وال ساتھی کو ٹانک کیمپس کا کو آر ڈ ینٹر بنا کر خٹک لابی کو واضح پیغام دیدیا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لئے ڈیرہ وال لابی میں موجود اپنے مہروں کا استعمال کرسکتے ہیں احسان دانش کو ٹانک کیمپس کا کوآر ڈینٹر بنانے پر ٹانک کے ممبر صوبائی اسمبلی محمود بیٹنی کوبھی شدید دھچکا لگا ہے کی وجہ رجسٹر ار دلنواز خان اور وائس چانسلر کی جانب سے ریاض بیٹنی کے ساتھ کی جانے والی زیادتی ہے جو کہ ان کو اس عہدے پر تعینات نہ کرکے ان کے ساتھ کی گئی ہے ریاض بیٹنی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کو ا س عہدے پر تعینات کروانے کے لئے محمود بیٹنی نے بہت کوشش کی تھیں اور وزیر اعلیٰ سے بھی اس حوالے سے بات کی گئی تھی لیکن اس سب کے باوجود ریاض بیٹنی کو اس عہدے پر تعینات کرے ان کے ساتھ کھیل کھیلا گیا ہے زرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ریاض بیٹنی کو اس لابی نے وائس چانسلر کے خلاف استعمال کرتے ہوئے وائس چانسلر کے خلاف اعلیٰ حکام کو خطوط لکھوائے تھے اور مبینہ طور پر پروپگینڈ ہ ہی کروایا تھا تاہم اس سب کے باوجود لابی نے اقبال زیب خٹک کو ان کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کرکے اس کی جگہ دانش اقبال جیسے مہرے کو اس عہدے پر تعینات کرنے کا مقصد یونیورسٹی کی طرح ٹانک کیمپس پر بھی اپنا کنڑول حاصل کرنا ہے جبکہ ٹانک کیمپس میں ہونے والی بھرتیاں بھی اس تبدیل کی اہم وجہ قرار دی جارہی ہیں یونیورسٹی میں لابیوں کی کھچڑی ، سردجنگ دن بدن تیز ہوتی جارہی ہے اور ڈیرہ وال لابی کے ہاتھوں خوشی سے استعمال ہوتے ہوئے اپنی مادر علمی کو تباہی سے دو چار کرنے جارہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں